Acne soap is a type of skincare product that is specifically formulated to treat acne breakouts. It typically contains active ingredients that help to unclog pores, reduce inflammation, and kill acne-causing bacteria. Some common ingredients found in acne soap include salicylic acid, benzoyl peroxide, and sulfur. These ingredients work by exfoliating the skin, drying out excess oil, and killing bacteria that can contribute to acne breakouts. Acne soap is usually used in conjunction with other acne treatment products, such as toners, creams, and spot treatments.

Directions for Use:

Wet face or other affected area with water. Apply De-Mal Acne Soap to make lather. Keep for half to one minute and rinse with water. Use two to three times a day.

Precautions:

Avoid contact into eyes. Flush liberally with water if lather enters into eyes. If there is sever irritation or redness during use, stop application. Slight irritation or dryness needs only reduction in application. (Use once daily)

ایکنی صابن ایک قسم کی سکن کیئر پروڈکٹ ہے جو خاص طور پر ایکنی بریک آؤٹ کے علاج کے لیے تیار کی جاتی ہے۔ اس میں عام طور پر فعال اجزاء ہوتے ہیں جو چھیدوں کو بند کرنے، سوزش کو کم کرنے اور مہاسے پیدا کرنے والے بیکٹیریا کو مارنے میں مدد کرتے ہیں۔ ایکنی صابن میں پائے جانے والے کچھ عام اجزاء میں سیلیسیلک ایسڈ، بینزول پیرو آکسائیڈ اور سلفر شامل ہیں۔ یہ اجزاء جلد کو ایکسفولیئٹ کرکے، اضافی تیل کو خشک کرکے، اور بیکٹیریا کو مار کر کام کرتے ہیں جو مہاسوں کے ٹوٹنے میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ ایکنی صابن عام طور پر مہاسوں کے علاج کی دیگر مصنوعات، جیسے ٹونرز، کریم اور سپاٹ ٹریٹمنٹ کے ساتھ مل کر استعمال ہوتا ہے۔

:هدایات برائے استعمال

چہرے اور متاثرہ جلد کو ڈیمال ایکنی سوپ سے دن میں دو، تین مرتبہ دھوئیں اور جھاگ آدھے سے ایک منٹ تک رکھیں۔

:احتياط

آنکھوں میں جھاگ مت جانیں دیں۔ اگر بے احتیاطی ہو جائے تو پانی سے اچھی طرح دھو لیں۔ جلد زیادہ خشک ہو تو استعمال کم کر دیں ( دن میں ایک مرتبہ ) ۔ دورانِ استعمال شدید جلن یا سرخی کی صورت میں استعمال بند کر دیں۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “De-Mal Acne Soap”

Your email address will not be published. Required fields are marked *