De-Mal anti-lice shampoo is a type of topical treatment that is used to kill head lice and their eggs. It typically contains an active ingredient that is toxic to lice, such as pyrethrin or permethrin. The shampoo is applied to the hair and scalp and is left on for a certain amount of time before being rinsed off. Some anti-lice shampoos also contain conditioners and other moisturizing agents to help soften and detangle the hair. It is important to follow the instructions for use carefully, as overuse or misuse of these products can lead to irritation or other adverse effects.


Shake the bottle well before use. Wet hair and take one teaspoonful of De-Mal Anti-Lice Shampoo, massage into hair to make a rich lather. Rinse hair thoroughly with water after five to ten minutes. For best results and prevention against head lice, use once or twice a week regularly.


Avoid contact in to eyes or mouth. Keep out of the reach of children.

ڈی مال اینٹی لائس شیمپو ایک قسم کا ٹاپیکل علاج ہے جو سر کی جوؤں اور ان کے انڈوں کو مارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں عام طور پر ایک فعال جزو ہوتا ہے جو جوؤں کے لیے زہریلا ہوتا ہے، جیسے پائریتھرین یا پرمیتھرین۔ شیمپو کو بالوں اور کھوپڑی پر لگایا جاتا ہے اور اسے دھونے سے پہلے ایک خاص وقت کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کچھ اینٹی جوؤں شیمپو میں کنڈیشنر اور دیگر موئسچرائزنگ ایجنٹ بھی ہوتے ہیں جو بالوں کو نرم کرنے اور ان کو ختم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ استعمال کے لیے دی گئی ہدایات پر احتیاط سے عمل کرنا ضروری ہے، کیونکہ ان مصنوعات کا زیادہ استعمال یا غلط استعمال جلن یا دیگر منفی اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔

:هدایات برائے استعمال

استعمال سے پہلے بوتل کو اچھی طرح ہلائیں۔ بالوں کو گیلے کریں اور ایک چائے کا چمچ ڈی مال اینٹی لائس شیمپو لے کر بالوں میں مالش کریں تاکہ ایک بھرپور جھاگ بن سکے۔ پانچ سے دس منٹ بعد بالوں کو پانی سے اچھی طرح دھو لیں۔ بہترین نتائج اور سر کی جوؤں سے بچاؤ کے لیے ہفتے میں ایک یا دو بار باقاعدگی سے استعمال کریں۔


آنکھوں یا منہ سے رابطے سے گریز کریں۔ بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔


There are no reviews yet.

Be the first to review “De-Mal Antilice Shampoo”

Your email address will not be published. Required fields are marked *